آنکھوں آنکھوں میں بات ہو رہی ہے
منتشر کائنات ہو رہی ہے
حوصلہ دیکھ پارسائی مرا
غم آنکھوں سے بہہ گیا ورنہ
میں تجھ سے ہی کہنے لگا تھا
اتنی مشکل سے رکا ہے خوں
کچھ خاص دوستی کی ضرورت ہے
ہم کو اک آدمی کی ضرورت ہے
وہ رنگ جس میں عیب ہیں رنگوں کے
میرے نام کو حاصل تو ہے مقام اپنا
لیکن چند ہی گھڑیوں کا ہے قیام اپنا
مجھ کو دیکھ کے لوگوں نے یہ کہا تم سے؟
طلسمی تھا فسوں کے ہاتھ سے باہر نہیں آیا
کسی بھی شخص پر میرا کبھی ظاہر نہیں آیا
وفا مجھ میں نہ تھی پھر بھی ہزاروں کی محافل میں
جام سے مے کش سرائے گر گئے
ہم بلندی پر لے جائے گر گئے
اپنی آوازوں کو نیچا ہی رکھو
اب عشق سہارا نہیں ہو سکتا
وہ شخص ہمارا نہیں ہو سکتا
تم جو مرے ہو بھی گئے ہو لیکن
آپ سے لب کہاں کسی کے ہیں
آپ سی باتیں کون کرتا ہے
کون رکھتا ہے آپ سی آنکھیں