غم آنکھوں سے بہہ گیا ورنہ
میں تجھ سے ہی کہنے لگا تھا
اتنی مشکل سے رکا ہے خوں
وا کرتا تھا بہنے لگا تھا
روتے روتے سو ہی گیا میں
تن ہستے میں سہنے لگا تھا
خاموشی سے چھوڑ گیا تو
جب مجھ میں تو رہنے لگا تھا
درپن کن کاموں میں لگا ہے
غم تھا غم کیا کہنے لگا تھا
درپن نبراس