میرے نام کو حاصل تو ہے مقام اپنا لیکن چند ہی گھڑیوں کا ہے قیام اپنا مجھ کو دیکھ کے لوگوں نے یہ کہا تم سے؟ پاگل ہے کوئی اس سے لے نہ سلام اپنا وہ بھی اب مجھے تیور سا دیکھاتے ہیں میری نظم سے سیکھے ہیں جو کلام اپنا اب کے کون دیا کرتا ہے کسی کو کچھ خط سو لکھا ہے میں نے کر کے بنام اپنا وقت ابھی عاجز ہے کب کون بدل جائے سب نے بنایا ہے اک خاص نظام اپنا دیکھ رہا ہوں وہ سب کچھ ہیں بنے درپن جن کو نشہ اپنا ہے نہ کوئی جام اپنا
درپن نبراس