آنکھوں آنکھوں میں بات ہو رہی ہے
منتشر کائنات ہو رہی ہے
حوصلہ دیکھ پارسائی مرا
میکدے میں قرات ہو رہی ہے
ایک دو دور بیت جائیں یہاں
جب تلک ان سے بات ہو رہی ہے
ساقی تیری شراب پھیکی رہی
کچھ عجب واردات ہو رہی ہے
زندگی اپنی تھی خراب کٹی
موت اپنی حیات ہو رہی ہے
چار دن تھے کہ تیرے نام کیے
اب ترے نام ذات ہو رہی ہے
آستیں غیر سے ملا ہی نہیں
اپنے ہاتھوں سے گھات ہو رہی ہے
آخری وقت خود ہوئے نہ ہوئے
کم سے کم کلیات ہو رہی ہے
اتنی دنیا سمجھ لی ہے کہ مری
نا سمجھ نفسیات ہو رہی ہے
جب سے درپن کہ لکھ رہا ہے تجھے
اس کی اردو لغات ہو رہی ہے
درپن نبراس