طلسمی تھا فسوں کے ہاتھ سے باہر نہیں آیا
کسی بھی شخص پر میرا کبھی ظاہر نہیں آیا
وفا مجھ میں نہ تھی پھر بھی ہزاروں کی محافل میں
میں تو میلا تھا میرے جیسا بھی طاہر نہیں آیا
کہاں میرا نصیبا میں بھلا اتنا کہوں خود سے
مرے کہنے پہ بھی ملنے مجھے ساحر نہیں آیا
وہ اپنے حال سے سہما ہوا گھر ہی رہا ہو گا
مگر سب کو لگا وہ ڈر کے ہی باہر نہیں آیا
بہت آئے گئے دنیا میں لفظوں کے سحر والے
مگر کوئی بھی درپن سا یہاں ماہر نہیں آیا
درپن نبراس