جام سے مے کش سرائے گر گئے ہم بلندی پر لے جائے گر گئے اپنی آوازوں کو نیچا ہی رکھو ہم بھی کیا تھے کیا ہی ہائے گر گئے ان کی محفل کا عجب دستور تھا جو بھی بولے مسکرائے گر گئے اتنی بے آرام ہے الفت کہ بس دل لگے یا جو لگائے گر گئے کس قدر کم زندگانی ہے مری خلد سے آئے کے آئے گر گئے ایسا بھی کیا تھا کفن بھیگا کیا اشک رکنے پر نہ آئے گر گئے ان کا وعدہ تھا انہیں ہی آنے دو تم جو درپن کو بلائے گر گئے
درپن نبراس