کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ

ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں

اختر شمار

کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ

ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں



اختر شمار

اس کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں

مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں



اختر شمار

میرا پہلا محبوب جو سامنے آئے تو چہرہ پھیر لوں میں

تو تو دسواں بارہ ہے تو کون سی بات پہ اتراتا ہے بھلا



درپن نبراس
اشتہار لوڈ نہیں ہو سکا۔ براہ کرم ریفریش کریں یا ایڈ بلاکر بند کریں۔