اب عشق سہارا نہیں ہو سکتا وہ شخص ہمارا نہیں ہو سکتا تم جو مرے ہو بھی گئے ہو لیکن اب کے میں تمھارا نہیں ہو سکتا تم جاو گے اگر غیر کی طرف بھی تم میں تمھیں پیارا نہیں ہو سکتا اب حشر میں کیا بولو گے خدا سے یہ شرک دوبارہ نہیں ہو سکتا تم غیر کے پہلو میں بیٹھ آئے یہ ہم کو گوارا نہیں ہو سکتا اب شوق میں بگڑے ہوئے صنم کو کعبے کا نظارہ نہیں ہو سکتا اس ناز سے ٹوٹا ہے دل کہ جاناں اب اور گزارا نہیں ہو سکتا اب مر چکا درپن تو آئے ہو تم اب کچھ بھی دوبارہ نہیں ہو سکتا
درپن نبراس