کچھ خاص دوستی کی ضرورت ہے ہم کو اک آدمی کی ضرورت ہے وہ رنگ جس میں عیب ہیں رنگوں کے اس عام دل کشی کی ضرورت ہے ہر بات کس طرح سے وجیہہ ہو اردو میں چاشنی کی ضرورت ہے سب میرے یار ہیں سو مجھے لوگو یاروں سے دشمنی کی ضرورت ہے اب لوٹ آ کہ شمس کے جانے پر درپن کو روشنی کی ضرورت ہے
درپن نبراس