غلام نصیر الدین نصیر گیلانی

غلام نصیر الدین نصیر گیلانی

غزل (8)

ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی
آپ اس طرح تو ہوش اڑایا نہ کیجیے
یوں بن سنور کے سامنے آیا نہ کیجیے
یا سر پہ آدمی کو بٹھایا نہ کیجیے
بن کے تصویر غم رہ گئے ہیں
کھوئے کھوئے سے ہم رہ گئے ہیں
کیجیے جو ستم رہ گئے ہیں
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کہے کوئی تو بولوں میں بھی
خم ہے سرِ انساں , تو حرم میں کچھ ہے
لوگ اشک بہاتے ہیں تو غم میں کچھ ہے
بے وجہ کسی پر نہیں مرتا کوئی!
مری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہو گی
وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک