خم ہے سرِ انساں , تو حرم میں کچھ ہے لوگ اشک بہاتے ہیں تو غم میں کچھ ہے بے وجہ کسی پر نہیں مرتا کوئی! ہم پر کوئی مرتا ہے تو ہم میں کچھ ہے
غلام نصیر الدین نصیر گیلانی