محسن نقوی

محسن نقوی

غزل (2)

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
جب تِری دُھن میں جیا کرتے تھے
ہم بھی چُپ چاپ پِھرا کرتے تھے
آنکھ میں پیاس ہُوا کرتی تھی