جب تِری دُھن میں جیا کرتے تھے ہم بھی چُپ چاپ پِھرا کرتے تھے آنکھ میں پیاس ہُوا کرتی تھی دِل میں طوفان اُٹھا کرتے تھے لوگ آتے تھے غزل سُننے کو ہم تِری بات کِیا کرتے تھے سچ سمجھتے تھے تِرے وعدوں کو رات دِن گھر میں رہا کرتے تھے کسی ویرانے میں تجھ سے مِل کر دِل میں کیا پُھول کِھلا کرتے تھے؟ گھر کی دِیوار سجانے کے لیے ہم تِرا نام لکھا کرتے تھے وُہ بھی کیا دِن تھے بُھلا کر تجھکو ہم تجھے یاد کِیا کرتے تھے جب تِرے درد میں دِل دُکھتا تھا ہم تِرے حق میں دُعا کرتے تھے بُجھنے لگتا تھا جو چہرہ تیرا داغ سینے میں جلا کرتے تھے اپنے جذبوں کی کمندوں سے تجھے ہم بھی تسخیر کیا کرتے تھے اپنے آنسو بھی ستاروں کی طرح تیرے ہونٹوں پہ سجا کرتے تھے چھیڑتا تھا غمِ دُنیا جب بھی ہم تِرے غم سے گِلہ کرتے تھے کل تُجھے دیکھ کے یاد آیا ہے ہم سُخنور بھی ہُوا کرتے تھے
محسن نقوی