بیدم شاہ وارثی

بیدم شاہ وارثی

غزل (4)

دل لیا جان لی نہیں جاتی
آپ کی دل لگی نہیں جاتی
سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا
پہلے شرما کے مار ڈالا
پھر سامنے آ کے مار ڈالا
ساقی نہ پلائی تونے آخر
مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے
مگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے
قفس میں قید رکھ یا قید سے آزاد رہنے دے
مجھ سے چھپ کر مرے ارمانوں کو برباد نہ کر
داد خواہی کے لیے آیا ہوں بیداد نہ کر
دیکھ مٹ جائے گا ہستی سے گزر جائے گا