خمار بارہ بنکوی

خمار بارہ بنکوی

غزل (6)

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں
مری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں
یہ کیسی ہوائے ترقی چلی ہے
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
خدا ہے محبت محبت خدا ہے
کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم