ہوم
شعر
غزل
شعرا
نثر
رابطہ
اختر شمار
غزل (1)
اس کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
مکمل پڑھیں
شعر (2)
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
مکمل پڑھیں
اس کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
مکمل پڑھیں