استاد قمر جالوی

استاد قمر جالوی

غزل (3)

اس تیرے سر کی قسم فرق سرِ مو بھی نہیں
جس قدر ہم ہیں پریشاں ترے گیسو بھی نہیں
موت نے کتنا کج اخلاق بنایا ہے مجھے
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی
شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی
اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم