جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
پڑھیں
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
پڑھیں
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
پڑھیں
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
پڑھیں
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
پڑھیں
کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
پڑھیں
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
پڑھیں