روٹھے ہوئے یاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
بےفیض بہاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
جن راہگزاروں میں میرے ساتھ تھے تم بھی
ان راہگزاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
موجوں کا تلاطم کہیں آواز نہ سن لے
خاموش کناروں سے میرا ذکر نہ کرنا
پھولوں کی نزاکت کو کہیں ٹھیس نہ پہنچے
حسرت زدہ خاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
شاید میں عدم اب نہ خرابات میں آؤں
اب بادہ گُساروں سے میرا ذکر نہ کرنا
عبد الحمید عدم