جسکی جھنکار میں دل کا آرام تھا وہ تیرا نام تھا
میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا وہ تیرا نام تھا
تہمتیں مجھ پہ آتی رہی ہیں کئی ایک سے اک نئی
خوبصورت مگر جو اک الزام تھا وہ تیرا نام تھا
دوست جتنے تھے نا آشنا ہو گئے پارسا ہو گئے
ساتھ میرے جو رسوا سرِ عام تھا وہ تیرا نام تھا
صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی وہ تیری آس تھی
شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا وہ تیرا نام تھا
مجھ پہ قسمت رہی ہمیشہ مہرباں دے دیا سارا جہاں
پر جو سب سے بڑا ایک انعام تھا وہ تیرا نام تھا
غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے مار ڈالا مجھے
اک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا وہ تیرا نام تھا
تیرے ہی دم سے ہے یہ قتیل آج بھی شاعری کا ولی
اس کی غزلوں میں کل بھی جو الہام تھا وہ تیرا نام تھا
قتیل شفائی