کلام اللہ کی تفسیر ہوں میں
جمال اللہ کی تصویر ہوں میں
کہیں تو قائل تقدیر ہوں میں
کہیں پر ناخن تدبیر ہوں میں
مجھ ہی میں ہیں مصور کی ادائیں
اسی کے ناز کی تصویر ہوں میں
فرشتوں کا کیا منہ بند میں نے
غضب کی بولتی تصویر ہوں میں
قفس میں لوٹ کر کہتی ہے بلبل
کروں کیا بستۂ زنجیر ہوں میں
ملائک نے کیا ہے رشک مجھ پر
کچھ ایسی منتخب تصویر ہوں میں
میں معشوق ہوں یا ناز و انداز
کہیں پر عاشق دلگیر ہوں میں
بہت نازاں ہوا معمار قدرت
بنا کر مجھ کو وہ تعمیر ہوں میں
محبت نے مجھے رسوا کیا ہے
وگرنہ باعث تشہیر ہوں میں
قفس کی آمد شد کہہ رہی ہے
بہردم حالت تفسیر ہوں میں
صدائے یار کانوں میں بھری ہے
اسی سے صورت تصویر ہوں میں
کہاں کے خاک باد و آب و آتش
ضیائے خاص کی تنویر ہوں میں
حیا کے در سے رسوا کیسے اٹھوں
کہ یک در گیر و محکم گیر ہوں میں
رسوا مراد آبادی