ساز ہستی بجا رہا ہوں میں
جشن مستی منا رہا ہوں میں
کیا ادا ہے نثار ہونے کی
ان سے پہلو بچا رہا ہوں میں
کتنی پختہ ہے میری نادانی
تجھ کو تجھ سے چھپا رہا ہوں میں
دل ڈبوتا ہوں چشم ساقی میں
مے کو مے میں ملا رہا ہوں میں
آپ کو جیتنے کے دھوکے میں
جاں کی بازی لگا رہا ہو میں
ان کو ملنے کی آرزو میں عدمؔ
اپنے نزدیک آ رہا ہو میں
عبد الحمید عدم