چہرے
زندگی میں
دو چار لوگ ہیں
چہرے ہزار ہیں لیکن
میں دیکھتی ہوں انہیں
سوچتی ہوں کہ یہ
کیسے تھکتے نہیں
زندگی کی راہ میں
ہر موڑ پر
چہرے بدلتے ہیں یہ
کیا اتنے بے بس ہیں یہ
کہ گاہے بگاہے
خود کو بدلنے پہ مجبور ہیں
بقا کی جنگ کا
ہتھیار کیا یہ مکھوٹے ہی ہیں
پھر لگتا ہے مجھے
اتنے بے بس نہیں
جتنے بے حس ہیں یہ
مشغلہ ان کا ہے یہ
تقاضہ ان کا ہے یہ
کہ
جب بھی ان سے ملیں
ہم بھی بدل کر ملیں
حقیقت سے رخ پھیر کر ہم ملیں
وقت حالات کی رگ کو تھام کر
ہم
انداز ، لہجہ ، چہرہ ، بدلتے رہیں
خود کو اتنا ہم بدل دیں
کہ پھر
آئینہ سے اجنبی کی طرح
ہم ملیں
خود کو کھو کر دنیا میں
محو ہو جائیں ہم
زمانہ کی ٹھوکر پہ
رکھیں جائیں ہم
اتنے بزدل تو یارو کبھی ہم نہیں
اتنا بے حس تو اپنا چہرہ نہیں
ہمیں یہ لبادے نامنظور ہیں
جینے کہ یہ پیمانے نامنظور ہیں!