مجھے کیا ہو گیا ہے

دیکھو تو مجھے کیا ہو گیا ہے

کیا میری نبض چل رہی ہے

کیا میرا دل دھڑک رہا ہے

کیا میں اپنے ہوش کھو رہا ہوں

ہاں ہاں مجھے یقین ہے

ایسا ہی ہو رہا ہے

میں تجھ میں کھو رہا ہوں

میں نے دیکھا ہے تجھے ایسا

جیسے خواب میں نظر آتے ہیں

نئے موسم، نئی رونق، نئے گل

جیسے کرنین چمک رہی ہیں

وہاں سورج ابھر رہا ہے

میں سن رہا ہوں ہوا کا شور

اب شام ڈھل رہی ہے

مجھے چاند دکھ رہا ہے

وہ بدر کی شکل میں ہے

مجھے روشنی جکڑ رہی ہے

تیرا چہرہ ہے وہ شاید

یا وہ نور ابھر رہا ہے

میری آنکھ کھل گئی ہے

جو مجھے خواب دکھ گیا ہے

اسے یاد کر رہا ہوں

تم تو وہی ہو جانم

وہی شیشہ گل بدن

نازنین درپن، اور یار میری جانم

خیال ہیں بے مضر یہ

جیسے کوئی دھواں ہے

میں لکھ رہا ہوں ایسا

کیونکہ لکھا جا رہا ہے

یہ سچ ہے، یا ہے سبھی یہ جھوٹ

مجھ کو خبر نہیں ہے

تم ہو تو بس وہی نا

کہ دھنک سمیٹ لیتی ہو

تاروں کو کھینچ لیتی ہو

مزاج جسکا چنچل ہے

سراب جسکی آنکھیں ہیں

چراغ جسکا سایہ ہے

تلوار جسکی مژگاں ہیں

بہار جسکا جوبن ہے

خزاں جسکا تیہا ہے

شاید وہی ہو تم

مجھکو یہی پتا ہے

ایسے ہی دکھ رہی ہو تم

اتنا ہی بس پتا ہے

ایسے دکھ گئی ہو تم

دیکھو تو یار مجھکو

مجھے کیا ہو گیا یے

کیا میری نبض چل رہی ہے

کیا میرا دل دھڑک رہا ہے

کیا میں ہوش میں ہوں اب تک

یا مر چکا ہوں درپن

یار دیکھو تو

مجھے کیا ہو رہا ہے


درپن نبراس