تیری یاد کہ گم گشتہ
تیری یاد کہ گم گشتہ
میرے کواڑوں سے لپٹ کر بیٹھی ہے
اسے معلوم ہے میرا وقتِ رواں زبوں حال
مگر اسے میری خبر کہاں
میں جب بھی وجود و عدم میں ہوتا ہوں
تمہیں اسطورہ سناتا ہوں
بتاتا ہوں کہ دیکھو
حالات کیسے ہو گئے ہیں
میرے ساتھ چلنے والے
دیکھ تیرے پر نکل پڑے ہیں
مگر اس میں اک فسوں ہے
کچھ کفِ دست کچھ نگوں ہے
جب شمش تیرے دیدار کو چڑھتا ہے
تیرے نقش قسیم کی برکت سے
ہم جیسے دیوانوں کی غبش دیتا ہے
تو لگتا ہے تیرا غرور سر اٹھا گیا ہو گا
جو تھا تم نے چاہا قیام لا گیا ہو گا
اور تیرا دیوانہ کیف میں آ گیا ہو گا
مگر یہاں عجیب معمہ ہے
قفس میں رہنا رنگیں ہو گیا ہے
تم تو نہیں ہو یہاں وہاں
خبر جو پہنچے دل جلوں کی
کہ دیکھ کر ضوِ لیلہ
دل اپنا سجا لیتے ہیں
کوئی بھی آتا ہے شکستہ دل لے کر
اس کو کثف پہ اٹھا لیتے ہیں
ہم تیرے بعد جانِ جاں
تیری چلمن سے پیار کرتے ہیں
یوں ہی رہنا مسیحا ہمارے
دل فگار دل کو بیمار کرتے ہیں
تم کو خبر کہاں
تم تو یہاں نہیں ہو
اک تیری یاد کہ بیٹھی ہے میرے کواڑ پر
میں دالان میں تنہا تیرے سنگ سمیٹ رہا ہوں
بس کہ تیری یاد گم گشتہ
میرا اوتار ہو رہی ہے
تیری یاد گم گشتہ