ایک نقطہ حرف جملہ نثر، سب کا بیان یکساں ہے

ایک نقطہ حرف جملہ نثر

سب کا بیان یکساں ہے

جوڑ دو توڑ دو پیچ و خم کو نچوڑ دو

نحو کر لو یا صرف پڑھ لو

گردانیں جتنی بھی چاہے بھر لو

سب تیری ثنا ہی جپتے ہیں

ہیئت الف کی بھی وہی ہے

شکل میم کی بھی وہی ہے

پیمانہ رکھ لو، پرکار پھیرو

یہ علم ریاضی و مساوات یہ فلسفہ

جہاں سے چاہے اسکو دیکھو

سب کا مطلب پھر وہی ہے

زاویے سب کے الگ الگ ہیں

راستا لام کا اور، میم کا اور، صواد کا اور

مگر اس سارے نظام میں دیکھو

دکھتا پھر وہی ہے

کوئی سطر ہو، کوئی بحر ہو

مفعول میں، مفعولات میں، فعل میں

حتی کہ مستفعلن میں، مستفعلات میں

رکن میں یا ارکان میں

ہر صوت ہر بحر میں

ہر زبان میں

ذرا ٹھہرو اعداد کو پڑھ لو

بات وہیں سے نکلے گی

یہاں وہاں جانے سے اچھا ہے

ابجد بھی پڑھ لو

یہ یاترائیں، ماترائی، رموز و سارے اوقاف

یہ علم فلک و علم انشائیہ پرداز

خیر اب بھی سوچتے ہو بات کیا ہے

کس کا یہ ذکر یے، وہ ذات کیا ہے

چھوڑو اسکا ذکر بیاں سے باہر ہے

وہ ہستی جہاں کی جہاں سے باہر ہے

صرف اتنا ہی سمجھو

کوئی نقطہ ہو حرف ہو، جملہ ہو کہ نثر

سب کا بیان یکساں ہے


درپن نبراس